مواد پر جائیں
اردو
    سوال پوچھیں

    زکوٰۃ: احکام و مقدار قرآن و حدیث کی روشنی میں

    محمد پالن پوری · · 2 منٹ کا مطالعہ

    یہ صفحہ خودکار طور پر ترجمہ ہوا ہے۔ دینی مسائل میں اصل اردو متن ہی معتبر ہے۔

    زکوٰۃ ایک قطعی فریضہ ہے جس کی فرضیت قرآن نے اعلان کے ساتھ بیان کی ہے اور جس سے غفلت پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ترین تنبیہات فرمائی ہیں۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا نہ کی جائے وہ قیامت کے دن انسان کے لئے وبال بن جائے گا۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جس شخص کو اللہ نے مال دیا اور اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی تو قیامت کے دن اس کا مال ایک زہریلے سانپ کی صورت میں اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا جو کہے گا میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔

    یہی وجہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ کے منکرین کے خلاف جہاد کیا اور فرمایا خدا کی قسم! اگر یہ نماز تو پڑھیں مگر زکوٰۃ نہ دیں تو میں ان سے قتال کروں گا کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔

    زکوٰۃ دراصل معاشرے کے زخموں پر مرہم ہے، فقراء کے آنسو پونچھنے کا ذریعہ ہے، بھوکے پیٹوں کو آس دینے کا نام ہے اور صاحبِ مال کے دل کو نرم رکھنے کی حکمت ہے۔ جو شخص زکوٰۃ ادا کرتا ہے وہ اعلان کرتا ہے کہ یہ مال میرا نہیں، میں تو صرف امین ہوں، اصل مالک اللہ ہے۔

    نوٹ: جس شخص کو بھی اللہ تعالیٰ نے مالی وسعت عطا کی ہے اور وہ صاحبِ نصاب ہے تو اپنی زکوٰۃ کے تعلق سے کسی مشاق مفتی سے پوچھ کر زکوٰۃ نکالنے کا اہتمام فرمائے تاکہ کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ ہو۔

    یہ مضمون روزنامہ قومی صحافت، لکھنؤ میں ۱۲ مارچ ۲۰۲۶ کو شائع ہوا۔

    شیئر کریں

    تبصرے

    اپنا تبصرہ لکھیں

    تبصرے منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں۔ آپ کا ای میل ظاہر نہیں کیا جاتا۔

    متعلقہ مضامین

    مسائل

    میں حنفی کیوں ہوں؟

    الحمد للّٰہ! میں حنفی ہوں اور اپنی اس فقہی نسبت کے اظہار میں مجھے کوئی تردد یا احساسِ کمتری نہیں۔ میری حنفیت ایک اصولی اطمینان اور…