موافقاتِ عمر رضی اللہ عنہ
یہ صفحہ خودکار طور پر ترجمہ ہوا ہے۔ دینی مسائل میں اصل اردو متن ہی معتبر ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب کسی مسئلے میں لوگوں کی ایک رائے ہوتی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی دوسری رائے ہوتی تو اکثر قرآن کریم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق نازل ہوتا، جسے علماء نے موافقاتِ عمر کے نام سے یاد کیا ہے۔
خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میرے رب نے کئی معاملات میں میری موافقت فرمائی۔ اگرچہ بعض روایات میں تین امور کا ذکر آیا ہے لیکن محدثین نے وضاحت کی ہے کہ ان تین کا ذکر صرف ان کی شہرت کی وجہ سے ہے، ورنہ موافقات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ بعض روایات میں اکیس موافقات کا ذکر ملتا ہے۔
ان موافقات میں سب سے پہلے مقامِ ابراہیم کا واقعہ آتا ہے۔ بیت اللہ کے طواف کے دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ مقرر ہونا چاہیے۔ آپ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اگر مقامِ ابراہیم کو مصلیٰ بنا لیا جائے تو بہتر ہوگا۔ ابھی یہ خواہش زبان سے نکلی ہی تھی کہ آسمان سے وحی نازل ہوئی: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى گویا عمر کی زبان بولی اور قرآن نے اس کی تصدیق کر دی۔
یہ مضمون قومی بھارت، نئی دہلی میں ۲۱ جون ۲۰۲۶ کو شائع ہوا۔
تبصرے