امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مختصر سیرت
یہ صفحہ خودکار طور پر ترجمہ ہوا ہے۔ دینی مسائل میں اصل اردو متن ہی معتبر ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت ایک ایسی درخشاں شاہراہ ہے جس پر چل کر انسان عدل سیکھتا ہے، تقویٰ کی خوشبو محسوس کرتا ہے، شجاعت کا مفہوم سمجھتا ہے، عاجزی کا ذوق پاتا ہے اور خدمتِ خلق کا حقیقی سبق حاصل کرتا ہے۔
آپ وہ عظیم شخصیت ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد فضائل بیان فرمائے ہیں اور جن کی زندگی اسلام کی قوت اور حق کی سربلندی کا روشن عنوان بن گئی۔ قبولِ اسلام سے پہلے اپنی جلالت اور سخت مزاجی کے لئے معروف تھے لیکن جب نورِ ایمان دل میں اترا تو یہی سختی باطل کے خلاف آہنی دیوار اور حق کے لئے غیر متزلزل استقامت میں بدل گئی۔ اسی بے مثال حق گوئی کی بنا پر آپ کو فاروق کا لقب ملا، یعنی حق اور باطل کے درمیان واضح فرق کرنے والے۔
آپ کی سیرت کا ہر پہلو حیرت انگیز توازن کا آئینہ دار ہے۔ میدانِ جہاد میں شیر کی مانند بے خوف نظر آتے مگر یتیم کے سر پر ہاتھ رکھتے وقت نہایت نرم دل، دشمن کے سامنے پہاڑ کی طرح مضبوط مگر اللہ کے خوف سے راتوں کو آنسو بہانے والے، ایک طرف وسیع سلطنت کے فرمانروا تو دوسری طرف اپنے لباس پر پیوند لگانے میں عار محسوس نہ کرنے والے۔ آپ کی زندگی یہ اعلان کرتی ہے کہ عظمت کردار کی بلندی میں پوشیدہ ہے۔
یہ مضمون ہفت روزہ نیپال اردو ٹائمز میں ۱۸ جون ۲۰۲۶ کو اور روزنامہ قومی صحافت، لکھنؤ میں ۱۷ جون ۲۰۲۶ کو شائع ہوا۔
تبصرے